مَفَاتِحَ
Appears 1 times in Quran
Derived Words (2)
Words derived from the stem "مَفَاتِحَ".
- his hoardings
- his hoardings
Occurrences in Quran
Found 1 verses containing "مَفَاتِحَ".
۞ إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ مِنَ ٱلْكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلْعُصْبَةِ أُو۟لِى ٱلْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُۥ قَوْمُهُۥ لَا تَفْرَحْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْفَرِحِينَ
2
فَبَغٰی عَلَیْھِمْ ظالم بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ وہ چھوٹے عہدوں پر رعایا میں سے کچھ لوگ مقرر کرتے ہیں اور یہ لوگ اپنے ہم قوموں پر ظلم کرنے میں خود حاکموں سے بھی آگے نکلے ہوئے ہوتے ہیں۔ انگریز کے زمانہ میں دیکھ لو‘ انگریز سپرنٹنڈنٹ پولیس اور انگریز ڈپٹی کمشنر اتنا ظلم نہیں کرتا تھا جتنا کہ ایک ہندوستانی تھانے دار یا کانسٹیبل یا پٹواری یا تحصیلدار ظلم کرتے تھے۔ فرعون نے بھی یہی چال چلی تھی۔ اور بعض ریونیو افسر یا تحصیلدار خود بنی اسرائیل سے مقرر کر دیئے تھے۔ اور وہ لوگ قبطیوں سے بھی زیادہ اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے۔ کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ با
3
اٰ تَیْنٰـہُ مِنَ الْـکُنُوّزِ اس سے یہ مرادنہیں کہ یہ خزانے اس کے ذاتی تھے‘ بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ایک تحصیلدار یا افسر مال تھا یا افسر خزانہ تھا۔ جس کی تحویل میں سرکاری خزانے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام بھی اپنے وقت کے فرعون کے ملازم تھے۔ سورہ یوسف رکوع۷ میں ہے کہ جب فرعونِ مصر نے یوسف علیہ السلام کو قید سے نکالنے کے بعد کہا کہ ہم تم کو اپنے دربار میں بڑا مقام دیں گے۔ تو یوسف علیہ السلام نے کہا کہ مجھے آپ ملک کے خزانوں کا افسر بنا دیں۔ میں اس فن کو خوب جانتا ہوں اور اقتصادیات کا ماہر ہوں۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں
4
اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوْٓ أُ بِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ بعض مفسرین نے اس آیت سے قارون کی دولت کا ایک الف لیلوی اندازہ لگایا ہے۔ حالانکہ اس آیت سے یہ تو پتہ لگتا ہے کہ قارون مال دار آدمی تھا مگر کوئی جنّاتی خزانہ اس کے قبضہ میں ثابت نہیں ہوتا۔ یہ کہ خزانہ کی کنجیاں ایک مضبوط جماعت کے لئے بھی اٹھانی مشکل تھیں۔ اس کی توجیہہ کرتے ہوئے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ خزانہ حکومت کا تھا اور اس وقت بادشاہ جب ملک میں سفر کرتے تھے تو سینکڑوں ہزاروں اونٹوں پر خزانے کے دوہرے بکس رکھ کر ساتھ لے جاتے تھے کیونکہ اس وقت موٹر نہیں ہوتے تھے نہ مختلف علاقوں میں سرکاری خزانے ب