يُغْنِيَا
Appears 1 times in Quran
Occurrences in Quran
Found 1 verses containing "يُغْنِيَا".
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱمْرَأَتَ نُوحٍ وَٱمْرَأَتَ لُوطٍ ۖ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَٰلِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا وَقِيلَ ٱدْخُلَا ٱلنَّارَ مَعَ ٱلدَّٰخِلِينَ
قرآن مجید میں تَحْتَ کا لفظ آتا ہے۔ جس کے معنے نیچے کے ہیں۔ مگر عربی محاورہ کے مطابق عورت کے مرد کے ماتحت ہونے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اس کی بیوی تھی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ کَانَتَا تَحْتَھُمَا وہ ان دونوں کے ماتحت تھیں بلکہ یہ کہا ہے کہ وہ ہمارے دو بندوں کے ماتحت تھیں اور جو خدا کا بندہ ہو وہ کسی قسم کا ظلم نہیں کر سکتا۔ پس ان الفاظ سے بتا دیا ہے کہ گو وہ عورتیں نوحؑ اور لوطؑ کے ماتحت تھیں مگر پھر بھی وہ ماتحتی مجبوری کی نہیں تھی بلکہ ارادت اور عقیدت کی تھی۔
یعنی خداتعالیٰ کا معاملہ ہر انسان سے انفرادی ہوتا ہے۔ اگر کوئی نیک بندہ ہو تو وہ اپنا ہی بوجھ اٹھا سکتا ہے دوسرے کا نہیں اٹھا سکتا۔ بلکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں کوئی بدی کریں گی تو ان کو دُگنا عذاب ملے گا۔ (احزاب: ۳۱) پس نیک آدمی کی بیوی بننے سے عورت کسی رعایت کی مستحق نہیں ہوتی بلکہ اس کی ذ مّہ واری بڑھ جاتی ہے۔
The disbelievers are compared to the wives of Noah and Lot in order to show that the companionship of a righteous man, even a Prophet of God, does not benefit an evilly-inclined person who is bent upon rejecting truth. The wife of Pharaoh represents those believers, who though passionately desiring and praying to get rid of sin, cannot fully dissociate themselves from evil influences which are represented by Pharaoh, and having arrived at the stage of the "self-accusing soul" sometimes fail and falter. Mary, the mother of Jesus, represents those righteous servants of God who, having closed all avenues of sin and having made peace with God, are blessed with Divine inspiration; the pronoun hi in fihi standing for such fortunate believers. Or, the pronoun may stand for Farj which, literally meaning a cleft or fissure, signifies an opening through which sin can find access.
1
قرآن مجید میں تَحْتَ کا لفظ آتا ہے۔ جس کے معنے نیچے کے ہیں۔ مگر عربی محاورہ کے مطابق عورت کے مرد کے ماتحت ہونے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اس کی بیوی تھی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ کَانَتَا تَحْتَھُمَا وہ ان دونوں کے ماتحت تھیں بلکہ یہ کہا ہے کہ وہ ہمارے دو بندوں کے ماتحت تھیں اور جو خدا کا بندہ ہو وہ کسی قسم کا ظلم نہیں کر سکتا۔ پس ان الفاظ سے بتا دیا ہے کہ گو وہ عورتیں نوحؑ اور لوطؑ کے ماتحت تھیں مگر پھر بھی وہ ماتحتی مجبوری کی نہیں تھی بلکہ ارادت اور عقیدت کی تھی۔
2
یعنی خداتعالیٰ کا معاملہ ہر انسان سے انفرادی ہوتا ہے۔ اگر کوئی نیک بندہ ہو تو وہ اپنا ہی بوجھ اٹھا سکتا ہے دوسرے کا نہیں اٹھا سکتا۔ بلکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں کوئی بدی کریں گی تو ان کو دُگنا عذاب ملے گا۔ (احزاب: ۳۱) پس نیک آدمی کی بیوی بننے سے عورت کسی رعایت کی مستحق نہیں ہوتی بلکہ اس کی ذ مّہ واری بڑھ جاتی ہے۔
3078
The disbelievers are compared to the wives of Noah and Lot in order to show that the companionship of a righteous man, even a Prophet of God, does not benefit an evilly-inclined person who is bent upon rejecting truth. The wife of Pharaoh represents those believers, who though passionately desiring and praying to get rid of sin, cannot fully dissociate themselves from evil influences which are represented by Pharaoh, and having arrived at the stage of the "self-accusing soul" sometimes fail and falter. Mary, the mother of Jesus, represents those righteous servants of God who, having closed all avenues of sin and having made peace with God, are blessed with Divine inspiration; the pronoun hi in fihi standing for such fortunate believers. Or, the pronoun may stand for Farj which, literally meaning a cleft or fissure, signifies an opening through which sin can find access.