Verse 79
The Stories • makkah
View Aspects
قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ عِنۡدِیۡۤ ۚ اَوَلَمۡ یَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ قَدۡ اَہۡلَکَ مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ ہُوَ اَشَدُّ مِنۡہُ قُوَّۃً وَّاَکۡثَرُ جَمۡعًا ۚ وَلَا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِہِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ
39:50.
یہ فقرہ بھی بتاتا ہے کہ قارون ایک بڑا افسر تھا۔ جس کی لیاقت کی وجہ سے اس کو خزانہ کا افسر بنایا گیا تھا۔
اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ سرکاری خزانہ کا افسر تھا۔ اس کی ذاتی دولت نہ تھی۔ اگر ذاتی دولت ہوتی تو اس جگہ یہ فرمایا جاتا کہ اس سے بھی بڑے مالدار لوگوں کو خدا تباہ کر چکا ہے۔ مگر یہاں قارون کے مقابلہ میں قوموں اور اُمتوں کی دولت کو پیش کیا گیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ قارون کے قبضہ میں بھی قوم اور امت کی دولت تھی۔ یعنی وہ سرکاری افسر تھا۔ اس کی ذاتی دولت کا اس جگہ ذکر نہیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو سزا آتی ہے وہ طبعی ہوتی ہے۔ دنیوی بادشاہوں کی طرح حاکمانہ نہیں ہوتی۔ طبعی سزا آپ ہی بتا دیتی ہے کہ مجرم اس کا مستحق تھا۔ مثلاً کوئی شخص انکارِ حق کی وجہ سے ہدایت سے محروم ہو جائے یا دماغ سے کام نہ لینے کی وجہ سے سوچنے سے محروم ہو جائے تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پہلے اس کے جرم کی تحقیقات کیوں نہ کی گئی۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس کی سزا اس کے عملوں کے عین مطابق ہے اور سزا کا وجود ہی بدعملی کا ثبوت ہے۔
39:50.
The guilt of the disbelievers will be so patent that no further investigation will be considered necessary to establish it; or the meaning is that the guilty will not be given an opportunity to defend themselves, their sins and crimes being all too patent.
39:50.
Commentary:
The expression ولا یسأل عن ذنوبھم المجرمون may mean that the guilt of the disbelievers will be so patent that no further investigation will be considered necessary to establish it; or it may mean that the guilty will not be given an opportunity to defend themselves or to redress the wrong done by them, their sins and crimes being all too apparent.
a
39:50.
1
یہ فقرہ بھی بتاتا ہے کہ قارون ایک بڑا افسر تھا۔ جس کی لیاقت کی وجہ سے اس کو خزانہ کا افسر بنایا گیا تھا۔
2
اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ سرکاری خزانہ کا افسر تھا۔ اس کی ذاتی دولت نہ تھی۔ اگر ذاتی دولت ہوتی تو اس جگہ یہ فرمایا جاتا کہ اس سے بھی بڑے مالدار لوگوں کو خدا تباہ کر چکا ہے۔ مگر یہاں قارون کے مقابلہ میں قوموں اور اُمتوں کی دولت کو پیش کیا گیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ قارون کے قبضہ میں بھی قوم اور امت کی دولت تھی۔ یعنی وہ سرکاری افسر تھا۔ اس کی ذاتی دولت کا اس جگہ ذکر نہیں۔
3
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو سزا آتی ہے وہ طبعی ہوتی ہے۔ دنیوی بادشاہوں کی طرح حاکمانہ نہیں ہوتی۔ طبعی سزا آپ ہی بتا دیتی ہے کہ مجرم اس کا مستحق تھا۔ مثلاً کوئی شخص انکارِ حق کی وجہ سے ہدایت سے محروم ہو جائے یا دماغ سے کام نہ لینے کی وجہ سے سوچنے سے محروم ہو جائے تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پہلے اس کے جرم کی تحقیقات کیوں نہ کی گئی۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس کی سزا اس کے عملوں کے عین مطابق ہے اور سزا کا وجود ہی بدعملی کا ثبوت ہے۔
a
39:50.
2932
Commentary:
The expression ولا یسأل عن ذنوبھم المجرمون may mean that the guilt of the disbelievers will be so patent that no further investigation will be considered necessary to establish it; or it may mean that the guilty will not be given an opportunity to defend themselves or to redress the wrong done by them, their sins and crimes being all too apparent.
a
39:50.
2233
The guilt of the disbelievers will be so patent that no further investigation will be considered necessary to establish it; or the meaning is that the guilty will not be given an opportunity to defend themselves, their sins and crimes being all too patent.