Search Results for "وَلِلْمُطَلَّقَٰتِ"
View Aspects
وَلِلْمُطَلَّقَٰتِ مَتَٰعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ
مَعْرُوْف کا لفظ قرآن مجید میں بہت دفعہ آتا ہے اور یہ عرف سے نکلا ہے اور اس کے معنے ہیں ’’پہچانا ہوا۔‘‘ مفرداتِ راغب میں لکھا ہے اَلْمَعْرُوْفُ اِسْمٌ لِّکُلِّ فِعْلٍ یُعْرَفُ بِالْعَقْلِ اَوِ الشَّرْعِ حُسْنُہٗ یعنی معروف ہر اس فعل کو کہتے ہیں کہ جس کی خوبی عقل و شرع سے پہچانی جائے۔ پس جب شرع کے لحاظ سے معروف ہو تو وہ مطابق قانون فعل کہلائے گا اور جب عقل عامہ سے اس کی خوبی پہچانی جائے تو اسے مطابق دستور کہیں گے۔ کیونکہ جس امر کی خوبی ہر انسان پہچانتا ہے اس کا رواج بنی نوع انسان میں پایا جاتا ہے۔ اور جب کسی امر کی خوبی خاص فرد کی عقل سے پہچانی جائے گی تو
مُطَلَّقَات سے حسنِ سلوک کو پھر دہرایا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مطلقہ سے ناراضگی ہوتی ہے اس لئے اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی طرف خاص طور پر توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ تو مطلقہ عورتوں سے علاوہ مہر کے سلوک کرنے کا ارشاد فرماتا ہے اور مسلمان عورتوں کے مہر تک بھی کھا جاتے ہیں۔ اگر اس حکم پر عمل کیا جائے تو کس قدر فساد اور جھگڑے دور ہو جائیں اور طلاق جو صرف مجبوری میں حلال ہے اس تلخی کے پیدا کرنے کا موجب نہ ہو۔ جس کا موجب وہ اب ہو رہی ہے۔ بلکہ دونوں فریق محسوس کریں کہ مجبوری سے علیحدگی اختیار کی گئی ہے ورنہ آپس میں تلخی یا بدمزگی نہیں ہے۔ اس
2:242; 65:8.
Just as the preceding verse bestowed an additional favour on widows, the present one bestows an additional favour on divorced women. The injunction is particularly essential in the case of divorced women, because in moments of bitterness, which is the inevitable aftermath of a dissolved marriage, people are liable to be unjust and cruel towards their divorced wives.
2:232; 65:3.
Commentary:
Just as the preceding verse bestowed an additional favour on widows, the present one bestows an additional favour on divorced women. The injunction is particularly essential in the case of divorced women, because in moments of bitterness, which is the inevitable aftermath of a dissolved marriage, people are liable to be unjust and cruel towards their former wives. The verse warns them not to lose sight of the fear of God on such occasions and to act towards their former spouses not only with justice but with positive benevolence and kindness.
e
65:8.
191
正如上一节经文给寡妇以额外的恩惠那样, 这节经文给离婚的妇女以额外的恩惠。这一命令对离婚的妇女特别重要, 因为作为解除婚约后不可避免的恶果来说, 在痛苦的时刻人们总是会不公正和凶恶地对待他们离了婚的妻子的。
1
مَعْرُوْف کا لفظ قرآن مجید میں بہت دفعہ آتا ہے اور یہ عرف سے نکلا ہے اور اس کے معنے ہیں ’’پہچانا ہوا۔‘‘ مفرداتِ راغب میں لکھا ہے اَلْمَعْرُوْفُ اِسْمٌ لِّکُلِّ فِعْلٍ یُعْرَفُ بِالْعَقْلِ اَوِ الشَّرْعِ حُسْنُہٗ یعنی معروف ہر اس فعل کو کہتے ہیں کہ جس کی خوبی عقل و شرع سے پہچانی جائے۔ پس جب شرع کے لحاظ سے معروف ہو تو وہ مطابق قانون فعل کہلائے گا اور جب عقل عامہ سے اس کی خوبی پہچانی جائے تو اسے مطابق دستور کہیں گے۔ کیونکہ جس امر کی خوبی ہر انسان پہچانتا ہے اس کا رواج بنی نوع انسان میں پایا جاتا ہے۔ اور جب کسی امر کی خوبی خاص فرد کی عقل سے پہچانی جائے گی تو
2
مُطَلَّقَات سے حسنِ سلوک کو پھر دہرایا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مطلقہ سے ناراضگی ہوتی ہے اس لئے اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی طرف خاص طور پر توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ تو مطلقہ عورتوں سے علاوہ مہر کے سلوک کرنے کا ارشاد فرماتا ہے اور مسلمان عورتوں کے مہر تک بھی کھا جاتے ہیں۔ اگر اس حکم پر عمل کیا جائے تو کس قدر فساد اور جھگڑے دور ہو جائیں اور طلاق جو صرف مجبوری میں حلال ہے اس تلخی کے پیدا کرنے کا موجب نہ ہو۔ جس کا موجب وہ اب ہو رہی ہے۔ بلکہ دونوں فریق محسوس کریں کہ مجبوری سے علیحدگی اختیار کی گئی ہے ورنہ آپس میں تلخی یا بدمزگی نہیں ہے۔ اس
a
2:232; 65:3.
248
Commentary:
Just as the preceding verse bestowed an additional favour on widows, the present one bestows an additional favour on divorced women. The injunction is particularly essential in the case of divorced women, because in moments of bitterness, which is the inevitable aftermath of a dissolved marriage, people are liable to be unjust and cruel towards their former wives. The verse warns them not to lose sight of the fear of God on such occasions and to act towards their former spouses not only with justice but with positive benevolence and kindness.
b
2:242; 65:8.
299
Just as the preceding verse bestowed an additional favour on widows, the present one bestows an additional favour on divorced women. The injunction is particularly essential in the case of divorced women, because in moments of bitterness, which is the inevitable aftermath of a dissolved marriage, people are liable to be unjust and cruel towards their divorced wives.