بِجَہَنَّمَ
Appears 2 times in Quran
Occurrences in Quran
Found 2 verses containing "بِجَہَنَّمَ".
فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡہُ ۚ وَکَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیۡرًا
2:254; 10:41; 61:15.
سَعِیْر سَعْرٌ سے ہے جس کے اصل معنے تمازت کے ہیں (مفردات)
قرآن مجید میں لفظ کَفٰی کا ہے۔ مگر اردو میں کافی کا لفظ اس موقعہ پر استعمال نہیں ہوتا۔ اردو میں کافی کہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میری ضرورت پورا کرتی ہے۔ اور جہنم ضرورت پورا نہیں کرتی۔ اس لئے ہم نے آیات کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ جہنم تمازت میں بہت زیادہ ہے۔
2:254; 10:41; 61:15.
2:254; 10:41; 61:15.
a
2:254; 10:41; 61:15.
2
سَعِیْر سَعْرٌ سے ہے جس کے اصل معنے تمازت کے ہیں (مفردات)
3
قرآن مجید میں لفظ کَفٰی کا ہے۔ مگر اردو میں کافی کا لفظ اس موقعہ پر استعمال نہیں ہوتا۔ اردو میں کافی کہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میری ضرورت پورا کرتی ہے۔ اور جہنم ضرورت پورا نہیں کرتی۔ اس لئے ہم نے آیات کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ جہنم تمازت میں بہت زیادہ ہے۔
a
2:254; 10:41; 61:15.
b
2:254; 10:41; 61:15.
وَجِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۚ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسٰنُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی
یعنی وہ سزا کا دن ہوگا‘ اور جہنم کافروں کو نظر آنے لگ جائے گی۔
الٰہی کتب میں ہمیشہ رحم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ فرعون آخری وقت میں ایمان لایا تو اس کے متعلق بھی یہی حکم ہوا کہ ہم تمہاری ساری دعا کو قبول نہیں کر سکتے مگر بہرحال تمہارے جسم کو محفوظ رکھیں گے (یونس: ۹۳) یہی حال اہل مکّہ کا ہوا۔ جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ جس کے معنے یہی تھے کہ قتل اور موت کے عذاب سے بچا لئے گئے۔ لیکن ان کو وہ مقام حاصل نہیں ہوا‘ جو ابتدائی صحابہؓ کو حاصل ہوا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ فتح کے بعد ایمان لائے‘ وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اس
f
26:92.
g
79:36.
3
یعنی وہ سزا کا دن ہوگا‘ اور جہنم کافروں کو نظر آنے لگ جائے گی۔
4
الٰہی کتب میں ہمیشہ رحم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ فرعون آخری وقت میں ایمان لایا تو اس کے متعلق بھی یہی حکم ہوا کہ ہم تمہاری ساری دعا کو قبول نہیں کر سکتے مگر بہرحال تمہارے جسم کو محفوظ رکھیں گے (یونس: ۹۳) یہی حال اہل مکّہ کا ہوا۔ جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ جس کے معنے یہی تھے کہ قتل اور موت کے عذاب سے بچا لئے گئے۔ لیکن ان کو وہ مقام حاصل نہیں ہوا‘ جو ابتدائی صحابہؓ کو حاصل ہوا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ فتح کے بعد ایمان لائے‘ وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اس
b
26:92.
c
79:36.
a
26:92.
b
79:36.