وَأَنَّىٰ
Appears 2 times in Quran
Occurrences in Quran
Found 2 verses containing "وَأَنَّىٰ".
وَقَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ
The words may mean "after death" and the verse may signify that disbelievers will surely, realize after death that they were in the wrong. Disbelievers make foolish conjectures about the failure of the Prophet’s mission, which being far removed from the source of "the unseen" or from reality, reason and truth are foolish and baseless.
Commentary:
The words "from a position so far-off" may mean "after death." In this sense the verse would mean that disbelievers will surely realize after death that they were in the wrong.
3173
Commentary:
The words "from a position so far-off" may mean "after death." In this sense the verse would mean that disbelievers will surely realize after death that they were in the wrong.
2405
The words may mean "after death" and the verse may signify that disbelievers will surely, realize after death that they were in the wrong. Disbelievers make foolish conjectures about the failure of the Prophet’s mission, which being far removed from the source of "the unseen" or from reality, reason and truth are foolish and baseless.
وَجِا۟ىٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ
یعنی وہ سزا کا دن ہوگا‘ اور جہنم کافروں کو نظر آنے لگ جائے گی۔
الٰہی کتب میں ہمیشہ رحم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ فرعون آخری وقت میں ایمان لایا تو اس کے متعلق بھی یہی حکم ہوا کہ ہم تمہاری ساری دعا کو قبول نہیں کر سکتے مگر بہرحال تمہارے جسم کو محفوظ رکھیں گے (یونس: ۹۳) یہی حال اہل مکّہ کا ہوا۔ جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ جس کے معنے یہی تھے کہ قتل اور موت کے عذاب سے بچا لئے گئے۔ لیکن ان کو وہ مقام حاصل نہیں ہوا‘ جو ابتدائی صحابہؓ کو حاصل ہوا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ فتح کے بعد ایمان لائے‘ وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اس
f
26:92.
g
79:36.
3
یعنی وہ سزا کا دن ہوگا‘ اور جہنم کافروں کو نظر آنے لگ جائے گی۔
4
الٰہی کتب میں ہمیشہ رحم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ فرعون آخری وقت میں ایمان لایا تو اس کے متعلق بھی یہی حکم ہوا کہ ہم تمہاری ساری دعا کو قبول نہیں کر سکتے مگر بہرحال تمہارے جسم کو محفوظ رکھیں گے (یونس: ۹۳) یہی حال اہل مکّہ کا ہوا۔ جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ جس کے معنے یہی تھے کہ قتل اور موت کے عذاب سے بچا لئے گئے۔ لیکن ان کو وہ مقام حاصل نہیں ہوا‘ جو ابتدائی صحابہؓ کو حاصل ہوا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ فتح کے بعد ایمان لائے‘ وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اس
b
26:92.
c
79:36.
a
26:92.
b
79:36.