Verse 39
Ta-Ha • makkah
View Aspects
28:8, 9.
یورپین مستشرق اعتراض کرتے ہیں کہ بائیبل کے تفصیلی حالات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جاکر یہودیوں سے سن کر قرآن میں لکھے ہیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تفصیلی واقعات سورۃ مریم میں آتے ہیں اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے تفصیلی واقعات سورۃ طٰہٰ میں آتے ہیں اور یہ دونوں سورتیں ابتدائی زمانہ کی ہیں (بخاری کتاب التفسیر) پس یہ اعتراض غلط ہے کہ مدینہ کے یہودیوں سے سن کر آپ نے یہ حالات بیان کئے۔ بلکہ یہودیوں کے ساتھ ملنے سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان تمام حالات سے باخبر کر دیا تھا۔
28:8-9.
Important Words:
In ما یوحی (an important revelation), ما being مصدریة turns the verb following it into an infinitive and imparts to it an intensiveness of meaning. Thus the expression ما یوحی means, an important revelation or what it was necessary to be revealed at that time.
d
28:8, 9.
1
یورپین مستشرق اعتراض کرتے ہیں کہ بائیبل کے تفصیلی حالات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جاکر یہودیوں سے سن کر قرآن میں لکھے ہیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تفصیلی واقعات سورۃ مریم میں آتے ہیں اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے تفصیلی واقعات سورۃ طٰہٰ میں آتے ہیں اور یہ دونوں سورتیں ابتدائی زمانہ کی ہیں (بخاری کتاب التفسیر) پس یہ اعتراض غلط ہے کہ مدینہ کے یہودیوں سے سن کر آپ نے یہ حالات بیان کئے۔ بلکہ یہودیوں کے ساتھ ملنے سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان تمام حالات سے باخبر کر دیا تھا۔
b
28:8-9.
2262
Important Words:
In ما یوحی (an important revelation), ما being مصدریة turns the verb following it into an infinitive and imparts to it an intensiveness of meaning. Thus the expression ما یوحی means, an important revelation or what it was necessary to be revealed at that time.
b
28:8, 9.
1821
Ma being Masdariyyah, the verb following it imparts to it an intensiveness of meaning. The expression Ma yuha thus means, an important revelation; or what was necessary to be revealed at that time.