Verse 56
The Combined Forces • madinah
View Aspects
لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِىٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُنَّ ۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدًا
یہاں بیٹوں کا لفظ ہے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے ہاں کوئی جوان بیٹا نہیں تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض دفعہ حکم عام دیا جاتا ہے لیکن اس میں استثنا بھی ہوتے ہیں۔ جیسے قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ (بنی اسرائیل: ۲۴) یعنی اگر تم میں سے کسی کے ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اُف بھی نہ کہو۔ حالانکہ مسلمانوں میں لاکھوں آدمی ایسے نظر آتے ہیں جن کی اولاد کوئی نہیں تو لَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ کا مخاطب کون ہوا۔ کیا ایسی صورت میں ہم اس حکم کو بے فائدہ کہیں گے؟ بات اصل میں یہ ہے کہ ہر حکم میں استثناء ہوتا ہے۔
Commentary:
This verse lays down exceptions to the commandment given in verse 54 above. Women can go before these relations inside the house without observing "Purdah" or can converse freely with them.
1
یہاں بیٹوں کا لفظ ہے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے ہاں کوئی جوان بیٹا نہیں تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض دفعہ حکم عام دیا جاتا ہے لیکن اس میں استثنا بھی ہوتے ہیں۔ جیسے قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ (بنی اسرائیل: ۲۴) یعنی اگر تم میں سے کسی کے ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اُف بھی نہ کہو۔ حالانکہ مسلمانوں میں لاکھوں آدمی ایسے نظر آتے ہیں جن کی اولاد کوئی نہیں تو لَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ کا مخاطب کون ہوا۔ کیا ایسی صورت میں ہم اس حکم کو بے فائدہ کہیں گے؟ بات اصل میں یہ ہے کہ ہر حکم میں استثناء ہوتا ہے۔
3115
Commentary:
This verse lays down exceptions to the commandment given in verse 54 above. Women can go before these relations inside the house without observing "Purdah" or can converse freely with them.