Verse 70
The Table Spread • madinah
View Aspects
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَالصّٰبِـُٔوۡنَ وَالنَّصٰرٰی مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ
اس جگہ جو صابی کا لفظ آیا ہے اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ صابی کون تھے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ عربوں کی روایات سے جو احادیث میں بھی درج ہیں ثابت ہے کہ عرب لوگ ہر اس شخص کو جو یہودی عیسائی نہ ہو لیکن اہل کتاب ہونے کا دعویٰ کرے صابی کہتے تھے۔ چنانچہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو مکہ کے لوگ کہتے تھے کہ یہ صابی ہو گیا ہے اور جب مکہ والوں میں سے کوئی شخص مسلمان ہوتا تو اس محاورہ کے مطابق وہ کہتا کہ میں صابی بنتا ہوں۔ تحقیق سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ حَرّان سے تعلق رکھتے تھے۔ جو اُور مقام ابراہیم سے فلسطین کو جانے والے رستہ پر واقع ہے اور چونکہ یہ لوگ اپنے اندر ع
اس جگہ خوف اور حزن سے ’’حفاظت‘‘ ایمان کی علامت قرار دی گئی ہے۔ پس آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ یہودی‘ عیسائی اور صابی مومن ہیں۔ بلکہ یہ مفہوم ہے کہ منہ کا ایمان کافی نہیں۔ یہ سب قومیں ایمان کا دعویٰ کرتی ہیں مگر اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتیں کہ خداتعالیٰ نے بھی ان کے ایمان کو قبول کر لیا ہے۔ خداتعالیٰ کے قبول کر لینے کی علامت یہ ہے کہ وہ سچے مومنوں کو نہ تو آئندہ خوف کا شکار بناتا ہے نہ سابق کوتاہیوں کے بدنتائج کا شکار کرتا ہے۔ پس جسے یہ علامت حاصل ہوگی وہ ایمان دار ہوگا اور جسے نہ ہوگی وہ منہ سے ایمان کا دعوے دار کہلائے گا۔ خداتعالیٰ کے نزدیک ایمان دار نہ ہوگا۔
b
2:63; 22:18.
c
2:63.
1
اس جگہ جو صابی کا لفظ آیا ہے اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ صابی کون تھے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ عربوں کی روایات سے جو احادیث میں بھی درج ہیں ثابت ہے کہ عرب لوگ ہر اس شخص کو جو یہودی عیسائی نہ ہو لیکن اہل کتاب ہونے کا دعویٰ کرے صابی کہتے تھے۔ چنانچہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو مکہ کے لوگ کہتے تھے کہ یہ صابی ہو گیا ہے اور جب مکہ والوں میں سے کوئی شخص مسلمان ہوتا تو اس محاورہ کے مطابق وہ کہتا کہ میں صابی بنتا ہوں۔ تحقیق سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ حَرّان سے تعلق رکھتے تھے۔ جو اُور مقام ابراہیم سے فلسطین کو جانے والے رستہ پر واقع ہے اور چونکہ یہ لوگ اپنے اندر ع
2
اس جگہ خوف اور حزن سے ’’حفاظت‘‘ ایمان کی علامت قرار دی گئی ہے۔ پس آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ یہودی‘ عیسائی اور صابی مومن ہیں۔ بلکہ یہ مفہوم ہے کہ منہ کا ایمان کافی نہیں۔ یہ سب قومیں ایمان کا دعویٰ کرتی ہیں مگر اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتیں کہ خداتعالیٰ نے بھی ان کے ایمان کو قبول کر لیا ہے۔ خداتعالیٰ کے قبول کر لینے کی علامت یہ ہے کہ وہ سچے مومنوں کو نہ تو آئندہ خوف کا شکار بناتا ہے نہ سابق کوتاہیوں کے بدنتائج کا شکار کرتا ہے۔ پس جسے یہ علامت حاصل ہوگی وہ ایمان دار ہوگا اور جسے نہ ہوگی وہ منہ سے ایمان کا دعوے دار کہلائے گا۔ خداتعالیٰ کے نزدیک ایمان دار نہ ہوگا۔
b
2:63; 22:18.
c
See 2:63.
700
Commentary:
See notes on 2:63 and 5:66.
b
2:63; 22:18.
c
See 2:63.
775
See {104}.