صَدَّقَتْ
Appears 1 times in Quran
Derived Words (1)
Words derived from the stem "صَدَّقَتْ".
- and she fulfilled
Occurrences in Quran
Found 1 verses containing "صَدَّقَتْ".
وَمَرْيَمَ ٱبْنَتَ عِمْرَٰنَ ٱلَّتِىٓ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِۦ وَكَانَتْ مِنَ ٱلْقَٰنِتِينَ
21:92.
لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ عمران تو موسٰیؑ کے والد تھے‘ اور حضرت مریمؑ اُن سے ڈیڑھ ہزار سال بعد پیدا ہوئی تھیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کے بھیجنے والے کو تاریخ کا بھی علم نہیں تھا‘ مگر یہ اعتراض بے عقلی پر دلالت کرتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خود اسی قسم کا اعتراض کیا گیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ ہر قوم میں یہ رواج ہے کہ اپنے بڑے آدمیوں کا نام تبرک کے طور پر رکھتے ہیں۔ پس مریم کے باپ کابھی اگر اس کے باپ نے تبرک کے طور پر عمران نام رکھ دیا ہو تواس میں تعجب کی کونسی بات ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ مسیحؑ روح ہے کیونکہ وہ مریمؑ کے پیٹ میں ڈالا گیا تھا۔ لیکن یہ نا سمجھی کی بات ہے روح کے معنے جیسا کہ ہم پہلے سے لکھ چکے ہیں کلام کے بھی ہوتے ہیں۔ پس اس کے محض یہ معنے ہیں کہ ہم نے مریمؑ پر اپنا کلام نازل کیا تھا اور اس کو الہام کے ذریعہ سے مسیحؑ کی پیدائش کی خبر دی تھی۔
یعنی اس بات پر ایمان لائی تھی کہ واقعہ میں مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹا دیا جانے والا ہے۔
یعنی مسیحؑ کے متعلق جو پیشگوئیاں پرانی کتابوں میں پائی جاتی تھیں‘ مریمؑ صرف اپنی وحی کے ذریعہ سے ان پر ایمان نہیں لائی‘ بلکہ ان کتابوں کی پیشگوئیوں کے ذریعہ بھی ایمان لائی۔
کَانَتْ کا صیغہ مؤنث کا ہے مگر مِنَ الْقٰنِتِیْنَ میں قَانِتٌ مذکر آیا ہے۔ جس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ وہ عورت ذات فرمانبرداروں میں شامل ہوگئی۔ یعنی اس کو ترقی دیتے دیتے اللہ تعالیٰ نے وہ مقام دے دیا‘ جو کامل مردوں کو حاصل ہوتا ہے یہ ایک پیشگوئی تھی کہ آئندہ زمانہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا آدمی ظاہر ہوگا جس کو پہلے مریم کا نام دیا جائے گا اور پھر ترقی کرتے کرتے اس کو عیسیٰ کا نام دیا جائے گا۔ جو مرد کامل تھا۔
21:92.
Commentary:
In this and the preceding two verses, examples of the wives of the Prophets Noah and Lot, of the wife of Pharaoh, and the example of Mary, the mother of Jesus, are set forth. The disbelievers are compared to the wives of Noah and Lot in order to show that the companionship of a righteous man, even of a Prophet of God, does not benefit an evilly minded person who is bent upon rejecting truth. Prophet Noah’s wife was of a more wicked disposition than the wife of Lot since the latter only preferred the company of her relatives to that of Lot, while Noah’s son, probably under the corrupting influence of his mother, had rejected his father’s Message. The wife of Pharaoh stands for those believers who, though passionately desiring and praying to get rid of sin, yet cannot fully dissociate themselves from evil influences, represented by Pharaoh, and having arrived at the stage of the self-accusing soul (النفس اللوامة ) sometimes fail and falter. Mary, the mother of Jesus, represents those righteous servants of God, who having closed all avenues of sin and having made peace with God, are blessed with Divine inspiration; the pronoun (masculine gender) in فیه standing for such fortunate believers. Or, the pronoun may stand for فرج which, literally meaning a cleft or fissure, signifies an opening through which sin can find access.
a
21:92.
1
لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ عمران تو موسٰیؑ کے والد تھے‘ اور حضرت مریمؑ اُن سے ڈیڑھ ہزار سال بعد پیدا ہوئی تھیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کے بھیجنے والے کو تاریخ کا بھی علم نہیں تھا‘ مگر یہ اعتراض بے عقلی پر دلالت کرتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خود اسی قسم کا اعتراض کیا گیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ ہر قوم میں یہ رواج ہے کہ اپنے بڑے آدمیوں کا نام تبرک کے طور پر رکھتے ہیں۔ پس مریم کے باپ کابھی اگر اس کے باپ نے تبرک کے طور پر عمران نام رکھ دیا ہو تواس میں تعجب کی کونسی بات ہے۔
2
لوگ کہتے ہیں کہ مسیحؑ روح ہے کیونکہ وہ مریمؑ کے پیٹ میں ڈالا گیا تھا۔ لیکن یہ نا سمجھی کی بات ہے روح کے معنے جیسا کہ ہم پہلے سے لکھ چکے ہیں کلام کے بھی ہوتے ہیں۔ پس اس کے محض یہ معنے ہیں کہ ہم نے مریمؑ پر اپنا کلام نازل کیا تھا اور اس کو الہام کے ذریعہ سے مسیحؑ کی پیدائش کی خبر دی تھی۔
3
یعنی اس بات پر ایمان لائی تھی کہ واقعہ میں مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹا دیا جانے والا ہے۔
4
یعنی مسیحؑ کے متعلق جو پیشگوئیاں پرانی کتابوں میں پائی جاتی تھیں‘ مریمؑ صرف اپنی وحی کے ذریعہ سے ان پر ایمان نہیں لائی‘ بلکہ ان کتابوں کی پیشگوئیوں کے ذریعہ بھی ایمان لائی۔
5
کَانَتْ کا صیغہ مؤنث کا ہے مگر مِنَ الْقٰنِتِیْنَ میں قَانِتٌ مذکر آیا ہے۔ جس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ وہ عورت ذات فرمانبرداروں میں شامل ہوگئی۔ یعنی اس کو ترقی دیتے دیتے اللہ تعالیٰ نے وہ مقام دے دیا‘ جو کامل مردوں کو حاصل ہوتا ہے یہ ایک پیشگوئی تھی کہ آئندہ زمانہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا آدمی ظاہر ہوگا جس کو پہلے مریم کا نام دیا جائے گا اور پھر ترقی کرتے کرتے اس کو عیسیٰ کا نام دیا جائے گا۔ جو مرد کامل تھا۔
a
21:92.
4286
Commentary:
In this and the preceding two verses, examples of the wives of the Prophets Noah and Lot, of the wife of Pharaoh, and the example of Mary, the mother of Jesus, are set forth. The disbelievers are compared to the wives of Noah and Lot in order to show that the companionship of a righteous man, even of a Prophet of God, does not benefit an evilly minded person who is bent upon rejecting truth. Prophet Noah’s wife was of a more wicked disposition than the wife of Lot since the latter only preferred the company of her relatives to that of Lot, while Noah’s son, probably under the corrupting influence of his mother, had rejected his father’s Message. The wife of Pharaoh stands for those believers who, though passionately desiring and praying to get rid of sin, yet cannot fully dissociate themselves from evil influences, represented by Pharaoh, and having arrived at the stage of the self-accusing soul (النفس اللوامة ) sometimes fail and falter. Mary, the mother of Jesus, represents those righteous servants of God, who having closed all avenues of sin and having made peace with God, are blessed with Divine inspiration; the pronoun (masculine gender) in فیه standing for such fortunate believers. Or, the pronoun may stand for فرج which, literally meaning a cleft or fissure, signifies an opening through which sin can find access.
a
21:92.
3078
See 3078 under 66:11.