Verse 226
The Poets • makkah
View Aspects
یعنی شاعروں کے کلام کسی ایک مضمون کے متعلق نہیں ہوتے بلکہ جو جو مضمون ان کے ذہن میں آتا جاتا ہے اس کو اپنی نظم میں باندھتے جاتے ہیں۔ اصل مقصود ان کے مضمون کی ترتیب نہیں ہوتی بلکہ ایک قسم کے قافیوں اور ردیف کو اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ پس اشارتاً اس آیت میں یہ بھی پیشگوئی ہے کہ آئندہ شاعری کی رَو‘قافیہ اور ردیف کی طرف منتقل ہو جائے گی جو طریقہ کہ فارسی اور اردو شعرا نے اختیار کیا ہے۔ ورنہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ہے عرب شعراء میں حقیقی معنوں میں ردیف کا استعمال شروع نہیں ہوا تھا۔
Important Words:
یھیمون (wander aimlessly) is derived from ھام which means, he was or became thirsty. They say ھام الرجل علی وجھه i.e. the man went at random, not knowing where he was going (Lane & Aqrab).
Commentary:
The poets pursue every colourful fancy. Their themes have little coherence and consistency, and they lack continuity. Their thought is fragmentary.
4
یعنی شاعروں کے کلام کسی ایک مضمون کے متعلق نہیں ہوتے بلکہ جو جو مضمون ان کے ذہن میں آتا جاتا ہے اس کو اپنی نظم میں باندھتے جاتے ہیں۔ اصل مقصود ان کے مضمون کی ترتیب نہیں ہوتی بلکہ ایک قسم کے قافیوں اور ردیف کو اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ پس اشارتاً اس آیت میں یہ بھی پیشگوئی ہے کہ آئندہ شاعری کی رَو‘قافیہ اور ردیف کی طرف منتقل ہو جائے گی جو طریقہ کہ فارسی اور اردو شعرا نے اختیار کیا ہے۔ ورنہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ہے عرب شعراء میں حقیقی معنوں میں ردیف کا استعمال شروع نہیں ہوا تھا۔
2813
Important Words:
یھیمون (wander aimlessly) is derived from ھام which means, he was or became thirsty. They say ھام الرجل علی وجھه i.e. the man went at random, not knowing where he was going (Lane & Aqrab).
Commentary:
The poets pursue every colourful fancy. Their themes have little coherence and consistency, and they lack continuity. Their thought is fragmentary.