Verse 10
Ya Sin • makkah
View Aspects
وَجَعَلۡنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِہِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَیۡنٰہُمۡ فَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ
یعنی ایک طرف تو ان کے بیوی بچے ان کو رسوم کی پابندی پر مجبور کرتے ہیں۔ کوئی شادی بیاہ ہوتا ہے تو بیٹا کہتا ہے ’’ابّا فلاں کی شادی پر تو ایسے باجے بجے تھے اور اتنا خرچ ہوا تھا‘ میری شادی بھی شاندار کریں اور اتنے زیور بنوائیں‘‘ کبھی بیوی ایسی ہی باتیں کہہ کر اس کو ایسی رسوم پر مجبور کرتی ہے جو اس کا گلا گھونٹ دیتی ہیں اور کبھی پرانے بزرگ باپ دادا اور چچا وغیرہ جو پچھلی نسل کے ہیں قسم قسم کی باتیں بنا کر اس کو رسوم کے گڑھے میں گرانا چاہتے ہیں اور مصیبت محسوس کرکے جو عقل اس کو آتی ہے اس کی طرف اسے لوٹنے نہیں دیتے۔ غرض چاروں طرف سے اس کی عقل پر اتنے پردے ڈالے جاتے ہیں کہ
قران مجید میں فَاَغْشَیْنٰـھُمْ کے الفاظ ہیں جس کے معنے ہیں کہ ہم نے ان کو ڈھانک دیا ہے۔ یہ قرآنی محاورہ ہے۔ چونکہ تمام نتائج خداتعالیٰ نکالتا ہے اس لئے بہت سی جگہوں پر عمل کو بھی خداتعالیٰ اپنی طرف منسوب کر لیتا ہے تا انسان کو یہ سمجھ آئے کہ میں اپنی مرضی کے مطابق اپنی بداعمالی سے نہیں ہٹ سکتا بلکہ متواتر بداعمالی کے بعد خداتعالیٰ کی طبعی سزا مجھ پر نازل ہو جائے گی اور میں اپنی بداعمالی کے جال میں ایسا پھنس جاؤں گا کہ اس سے نکلنا میرے لئے مشکل ہو جائے گا۔
On account of the barriers of usages, prejudices and pride the disbelievers could not have looked forward to the great and bright future which lay before them if they accepted Islam, and they did not look back to the histories of past peoples who rejected the truth and were seized with Divine punishment.
Commentary:
The barriers referred to in the verse may be the barriers of usages, prejudices, and pride of disbelievers. They could not look forward to the great and bright future which lay before them if they accepted Islam, and they did not look back to the histories of past peoples who rejected the truth and were seized with Divine punishment. The result of the barriers placed before and behind them was that they themselves became totally devoid of all spiritual light.
1
یعنی ایک طرف تو ان کے بیوی بچے ان کو رسوم کی پابندی پر مجبور کرتے ہیں۔ کوئی شادی بیاہ ہوتا ہے تو بیٹا کہتا ہے ’’ابّا فلاں کی شادی پر تو ایسے باجے بجے تھے اور اتنا خرچ ہوا تھا‘ میری شادی بھی شاندار کریں اور اتنے زیور بنوائیں‘‘ کبھی بیوی ایسی ہی باتیں کہہ کر اس کو ایسی رسوم پر مجبور کرتی ہے جو اس کا گلا گھونٹ دیتی ہیں اور کبھی پرانے بزرگ باپ دادا اور چچا وغیرہ جو پچھلی نسل کے ہیں قسم قسم کی باتیں بنا کر اس کو رسوم کے گڑھے میں گرانا چاہتے ہیں اور مصیبت محسوس کرکے جو عقل اس کو آتی ہے اس کی طرف اسے لوٹنے نہیں دیتے۔ غرض چاروں طرف سے اس کی عقل پر اتنے پردے ڈالے جاتے ہیں کہ
2
قران مجید میں فَاَغْشَیْنٰـھُمْ کے الفاظ ہیں جس کے معنے ہیں کہ ہم نے ان کو ڈھانک دیا ہے۔ یہ قرآنی محاورہ ہے۔ چونکہ تمام نتائج خداتعالیٰ نکالتا ہے اس لئے بہت سی جگہوں پر عمل کو بھی خداتعالیٰ اپنی طرف منسوب کر لیتا ہے تا انسان کو یہ سمجھ آئے کہ میں اپنی مرضی کے مطابق اپنی بداعمالی سے نہیں ہٹ سکتا بلکہ متواتر بداعمالی کے بعد خداتعالیٰ کی طبعی سزا مجھ پر نازل ہو جائے گی اور میں اپنی بداعمالی کے جال میں ایسا پھنس جاؤں گا کہ اس سے نکلنا میرے لئے مشکل ہو جائے گا۔
3218
Commentary:
The barriers referred to in the verse may be the barriers of usages, prejudices, and pride of disbelievers. They could not look forward to the great and bright future which lay before them if they accepted Islam, and they did not look back to the histories of past peoples who rejected the truth and were seized with Divine punishment. The result of the barriers placed before and behind them was that they themselves became totally devoid of all spiritual light.
2429
On account of the barriers of usages, prejudices and pride the disbelievers could not have looked forward to the great and bright future which lay before them if they accepted Islam, and they did not look back to the histories of past peoples who rejected the truth and were seized with Divine punishment.