Verse 5
The Smoke • makkah
View Aspects
یعنی وہ رات جس میں نبی آتا ہے اور خدائی تعلیم دنیا کو سناتا ہے بڑی مبارک ہوتی ہے اس وقت نظام عالم میں بڑا گندنظر آتا ہے لیکن حقیقۃً خداتعالیٰ کا منشا اس وقت سچی تعلیم بھیجنے کا ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ ظاہر میں بُری نظر آنے والی رات درحقیقت سب سے اچھا زمانہ ہوتی ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو نئی ہو بلکہ آدمؑ کے زمانہ سے برابر یہ دور چلے آتے ہیں اور قرآن کریم کی یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ قیامت تک چلتے چلے جائیں گے۔
اس حصہ آیت میں اس مضمون کو واضح کر دیا گیا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ یعنی یہ رات ایسی ہے جس میں انبیاء دنیا کو الٰہی تعلیم دیتے ہیں اور قرآن کریم میں خداتعالیٰ کی باتوں کا نام’’امرِ حکیم‘‘رکھا گیا ہے کیونکہ خداتعالیٰ کا اپنا نام حَکِیْم ہے پس اس کی طرف سے جو بات آتی ہے وہ حکمتوں سے پُر ہوتی ہے۔
97:5.
The "Night of Destiny" or the time of the advent of a great Reformer heralds a new era, a new order of things, when, in fact, the future of humanity is decreed and decided. The time when the Qur’an was revealed was humanity’s greatest "Night of Destiny," for it was then that the foundations were laid of man’s destiny for all time to come.
97:5.
Commentary:
The "Night of Destiny" or the time of the advent of a great Divine Reformer heralds a new era, a new order of things, when, in fact, the future of humanity is decreed and decided. The time when the Quran was revealed was humanity’s greatest "Night of Destiny", for it was then that the foundations were laid of man’s destiny for all time to come.
d
97:5.
1238
“命运之夜” 或伟大的复兴者降临的时刻, 预示着一个新时代, 一个新秩序; 人类的未来在这时事实上已被住定和颁布。启示 «古兰经» 的时刻就是人类最伟大的 “命运之夜”, 因为人类千秋万代的命运在这时刻已奠定了基础。
1
یعنی وہ رات جس میں نبی آتا ہے اور خدائی تعلیم دنیا کو سناتا ہے بڑی مبارک ہوتی ہے اس وقت نظام عالم میں بڑا گندنظر آتا ہے لیکن حقیقۃً خداتعالیٰ کا منشا اس وقت سچی تعلیم بھیجنے کا ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ ظاہر میں بُری نظر آنے والی رات درحقیقت سب سے اچھا زمانہ ہوتی ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو نئی ہو بلکہ آدمؑ کے زمانہ سے برابر یہ دور چلے آتے ہیں اور قرآن کریم کی یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ قیامت تک چلتے چلے جائیں گے۔
2
اس حصہ آیت میں اس مضمون کو واضح کر دیا گیا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ یعنی یہ رات ایسی ہے جس میں انبیاء دنیا کو الٰہی تعلیم دیتے ہیں اور قرآن کریم میں خداتعالیٰ کی باتوں کا نام’’امرِ حکیم‘‘رکھا گیا ہے کیونکہ خداتعالیٰ کا اپنا نام حَکِیْم ہے پس اس کی طرف سے جو بات آتی ہے وہ حکمتوں سے پُر ہوتی ہے۔
d
97:5.
3702
Commentary:
The "Night of Destiny" or the time of the advent of a great Divine Reformer heralds a new era, a new order of things, when, in fact, the future of humanity is decreed and decided. The time when the Quran was revealed was humanity’s greatest "Night of Destiny", for it was then that the foundations were laid of man’s destiny for all time to come.
d
97:5.
2693
The "Night of Destiny" or the time of the advent of a great Reformer heralds a new era, a new order of things, when, in fact, the future of humanity is decreed and decided. The time when the Qur’an was revealed was humanity’s greatest "Night of Destiny," for it was then that the foundations were laid of man’s destiny for all time to come.