Verse 167
The Heights • makkah
View Aspects
2:66; 5:61.
بندر ہو جاؤ سے یہ مرادنہیں جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ مسخ ہو کر بندر ہو گئے تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ دل ناپاک ہو جائیں اور بندروں والی نقالی کی حرکات کرنے لگ جائیں۔ اس جگہ بندر کے لفظ کی صفت وہی رکھی ہے جو انسان کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس سے ثابت ہے کہ یہاں اصلی بندر مرادنہیں بلکہ بندر صفت انسان مراد ہے چنانچہ سورہ مائدہ آیت ۶۱و۶۲ میں لکھا ہے کہ یہ یہودی جو بندر بن گئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے پاس بھی آتے تھے۔ حالانکہ سب حدیثیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کے پاس بندر صفت یہودی تو ضرور آتے تھے مگر بندر بنے ہوئے یہودی کبھی نہیں آئے تھے۔
b
2:66; 5:61.
3
بندر ہو جاؤ سے یہ مرادنہیں جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ مسخ ہو کر بندر ہو گئے تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ دل ناپاک ہو جائیں اور بندروں والی نقالی کی حرکات کرنے لگ جائیں۔ اس جگہ بندر کے لفظ کی صفت وہی رکھی ہے جو انسان کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس سے ثابت ہے کہ یہاں اصلی بندر مرادنہیں بلکہ بندر صفت انسان مراد ہے چنانچہ سورہ مائدہ آیت ۶۱و۶۲ میں لکھا ہے کہ یہ یہودی جو بندر بن گئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے پاس بھی آتے تھے۔ حالانکہ سب حدیثیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کے پاس بندر صفت یہودی تو ضرور آتے تھے مگر بندر بنے ہوئے یہودی کبھی نہیں آئے تھے۔
a
2:66; 5:61.
1056
Commentary:
The expression, Be ye apes despised, explains the "severe punishment" mentioned in the previous verse. See also 2:66.
b
2:66; 5:61.
1065
See {107}.