وَاَحۡیَیۡتَنَا
Appears 1 times in Quran
Occurrences in Quran
Found 1 verses containing "وَاَحۡیَیۡتَنَا".
قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَاَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ
اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ میں ایک تو وہ موت مراد ہے جو پیدائش سے پہلے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اس کو یاد دلا کر وہ کہتے ہیں کہ الٰہی تو نے دو دفعہ ہم پر ایسی حالت طاری کی کہ ہم مُردوں کی مانند تھے۔ ایک دفعہ پیدائش سے پہلے اور ایک دفعہ زندگی کے بعد۔ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ میں بھی دو زندگیوں کی طرف اشارہ کیا ہے ایک دفعہ جب ماں کے پیٹ سے بچہ نکلا اور اس نے سانس لیا اور دوسری دفعہ جب وہ اس دنیا میں زندگی گذار کر مرے گا اور پھر زندہ کیا جائے گا۔
یعنی دو دفعہ موت کے بعد ہمیں زندگی ملی مگر پھر بھی ہم نے نصیحت حاصل نہ کی۔ تو کیا یہ ہمارا گناہ ناقابلِ معافی ہوگا یا کوئی ایسا ذریعہ بھی ہے جس سے معافی مل جائے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں تو یہ موقعہ ہے کہ انسان وقت کے نبی کو قبول کرے اور توبہ کرے تو اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور دوسرا موقعہ مرنے کے بعد شفاعت کا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آچکا ہے کہ نبیوں اور فرشتوں کے ذریعہ سے جن کو خداتعالیٰ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا بعض لوگ نجات پا جائیں گے (ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ۔ باب ماجاء فی الشفاعَۃِ و بخاری کتاب الرقاق)
30:41.
The state before birth is a sort of death and the end of this life is the second death. The birth and the Resurrection are the two lives.
30:41.
Commentary:
The state before birth is a sort of death and the end of this life is the second death. The birth and the Resurrection are the two lives.
b
30:41.
1156
诞生前的状态是一种死亡的形式, 而此生的了结是第二次死亡。诞生和复生是两次生命。
1
اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ میں ایک تو وہ موت مراد ہے جو پیدائش سے پہلے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اس کو یاد دلا کر وہ کہتے ہیں کہ الٰہی تو نے دو دفعہ ہم پر ایسی حالت طاری کی کہ ہم مُردوں کی مانند تھے۔ ایک دفعہ پیدائش سے پہلے اور ایک دفعہ زندگی کے بعد۔ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ میں بھی دو زندگیوں کی طرف اشارہ کیا ہے ایک دفعہ جب ماں کے پیٹ سے بچہ نکلا اور اس نے سانس لیا اور دوسری دفعہ جب وہ اس دنیا میں زندگی گذار کر مرے گا اور پھر زندہ کیا جائے گا۔
2
یعنی دو دفعہ موت کے بعد ہمیں زندگی ملی مگر پھر بھی ہم نے نصیحت حاصل نہ کی۔ تو کیا یہ ہمارا گناہ ناقابلِ معافی ہوگا یا کوئی ایسا ذریعہ بھی ہے جس سے معافی مل جائے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں تو یہ موقعہ ہے کہ انسان وقت کے نبی کو قبول کرے اور توبہ کرے تو اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور دوسرا موقعہ مرنے کے بعد شفاعت کا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آچکا ہے کہ نبیوں اور فرشتوں کے ذریعہ سے جن کو خداتعالیٰ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا بعض لوگ نجات پا جائیں گے (ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ۔ باب ماجاء فی الشفاعَۃِ و بخاری کتاب الرقاق)
a
30:41.
3503
Commentary:
The state before birth is a sort of death and the end of this life is the second death. The birth and the Resurrection are the two lives.
a
30:41.
2598
The state before birth is a sort of death and the end of this life is the second death. The birth and the Resurrection are the two lives.