تَسۡجُدَ
Appears 2 times in Quran
Occurrences in Quran
Found 2 verses containing "تَسۡجُدَ".
قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُکَ ۖ قَالَ اَنَا۠ خَیۡرٌ مِّنۡہُ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ
حکم براہِ راست فرشتوں کو تھا۔ مگر جب آفیسر کو حکم دیا جائے تو ماتحت اس میں شامل ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں بہت دفعہ ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا ہے مگر مراد آپ کے اتباع ہوتے ہیں‘ جیسا کہ فرمایا کہ جب تیری زندگی میں تیرے ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو۔ حالانکہ آپ یتیم تھے۔ پس مراد آپ کے اتباع ہیں آپ نہیں۔
عربی زبان میں کبھی لا زائدہ بھی ہوتا ہے۔
یعنی گیلی مٹی کی طرح آدمی مختلف اخلاق میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اور چاہے تو بالا طاقت کا مطیع بھی ہو سکتا ہے مگر میری فطرت میں تو نے ناری صفت رکھی ہے‘ اس لئے میں کسی کا مطیع نہیں بن سکتا۔ عربی کا محاورہ ہے خُلِقَ مِنْ عَجَلٍ جس کے معنے یہ نہیں کہ جلدی کوئی مادہ ہے جس سے انسان پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی کا مادہ ہے۔ اسی طرح اس آیت سے یہ مرادنہیں کہ آدمی مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اور شیطان آگ سے‘ بلکہ یہ مراد ہے کہ انسان کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ مختلف حالات میں ان کے مطابق ڈھل جاتا ہے اور شیطان کی فطرت میں آگ جیسا مادہ ہے اور و
15:33-34; 38:76-77.
What is represented in the present verse as a dialogue between God and Iblis does not necessarily mean that an exchange of words did actually take place. The words may only depict a state of things, a picture of the conditions that came into existence as a result of the refusal of Iblis to submit to Adam. See also {61}.
For an explanation of the word "clay" see {420A}.
15:33-34; 38:76-77.
Commentary:
What is represented in the present verse as a dialogue between God and Iblis does not necessarily show that an exchange of words actually took place between the two. The words may only depict a state of things, a picture of the conditions that came into existence as a result of the refusal of Iblis to submit to Adam. The verb قال (said) as shown under 2:31 and 2:34 does not always signify the actual uttering of words, being sometimes used to represent only a state of affairs.
For an explanation of the words "fire" and "clay" see 2:81 and 3:50.
c
15:33-34; 38:76-77.
478
这节经文所叙述的是安拉与伊布利司之间的一次对话, 但它并不一定意味着真的发生一次交谈。这些话可能只是描写事情的一种状态, 说明一种情况, 其结果是伊布利司拒绝顺从阿丹。(请参考脚注34A)
1
حکم براہِ راست فرشتوں کو تھا۔ مگر جب آفیسر کو حکم دیا جائے تو ماتحت اس میں شامل ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں بہت دفعہ ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا ہے مگر مراد آپ کے اتباع ہوتے ہیں‘ جیسا کہ فرمایا کہ جب تیری زندگی میں تیرے ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو۔ حالانکہ آپ یتیم تھے۔ پس مراد آپ کے اتباع ہیں آپ نہیں۔
2
عربی زبان میں کبھی لا زائدہ بھی ہوتا ہے۔
3
یعنی گیلی مٹی کی طرح آدمی مختلف اخلاق میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اور چاہے تو بالا طاقت کا مطیع بھی ہو سکتا ہے مگر میری فطرت میں تو نے ناری صفت رکھی ہے‘ اس لئے میں کسی کا مطیع نہیں بن سکتا۔ عربی کا محاورہ ہے خُلِقَ مِنْ عَجَلٍ جس کے معنے یہ نہیں کہ جلدی کوئی مادہ ہے جس سے انسان پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی کا مادہ ہے۔ اسی طرح اس آیت سے یہ مرادنہیں کہ آدمی مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اور شیطان آگ سے‘ بلکہ یہ مراد ہے کہ انسان کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ مختلف حالات میں ان کے مطابق ڈھل جاتا ہے اور شیطان کی فطرت میں آگ جیسا مادہ ہے اور و
a
15:33-34; 38:76-77.
917
Commentary:
What is represented in the present verse as a dialogue between God and Iblis does not necessarily show that an exchange of words actually took place between the two. The words may only depict a state of things, a picture of the conditions that came into existence as a result of the refusal of Iblis to submit to Adam. The verb قال (said) as shown under 2:31 and 2:34 does not always signify the actual uttering of words, being sometimes used to represent only a state of affairs.
For an explanation of the words "fire" and "clay" see 2:81 and 3:50.
d
15:33-34; 38:76-77.
952
What is represented in the present verse as a dialogue between God and Iblis does not necessarily mean that an exchange of words did actually take place. The words may only depict a state of things, a picture of the conditions that came into existence as a result of the refusal of Iblis to submit to Adam. See also {61}.
953
For an explanation of the word "clay" see {420A}.
قَالَ یٰۤاِبۡلِیۡسُ مَا مَنَعَکَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ۖ اَسۡتَکۡبَرۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡعَالِیۡنَ
یعنی تمام صفات اس کے اندر جمع کر دی ہیں کیونکہ عربی میں تثنیہ جمع کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے (دیکھو فقہ اللغہ جلد۲صفحہ ۲۱۶)
7:13; 15:33.
a
7:13; 15:33.
1120
“用我的双手” 这些字意示: “我已使他在自己的身上显示出我的一切常德。”
2
یعنی تمام صفات اس کے اندر جمع کر دی ہیں کیونکہ عربی میں تثنیہ جمع کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے (دیکھو فقہ اللغہ جلد۲صفحہ ۲۱۶)
a
7:13; 15:33.
c
7:13; 15:33.
2555
The words, 'with My two hands,' signify, 'I have made him to manifest in himself all My attributes.'